From east to west the sky was lit up with red, green and white colors of fireworks. As far as the eye could see, the sky was filled with col...
لوگ کہتے ہیں کہ تنقید کرنا آسان ہے، بہتری کے لیے تجویز دی جائے، تو سوچا کیوں نہ کچھ تجاویز دے دوں کہ میں نے دیکھا ہے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے محکمے میں ایک چھوٹا سا ایسا طبقہ ضرور ہوتا ہے کہ جو وہ کرنا چاہتے ہیں کر دکھاتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ سارا نظام چل رہا ہے۔
تو جناب کیا پورے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ کے آس پاس یا اندر کوئی کونا ایسا نہیں جہاں اس جشن کی حکومتی تیاری ہوسکے۔ کوئی میلہ، کوئی مینا بازار کوئی کلچرل شو جہاں سارے شہر کے اسکول اور کالج کے بچے ملی نغمے گا سکیں؟ جہاں کوئی ایک دو گلوکار لائیو گیت گا سکیں؟ جہاں بچے اور نوجوان مختلف کھیلوں اور مقابلوں میں حصہ لے سکیں؟ اپنے جوش اور جذبے کا اظہار کرسکیں۔
یہی عوام جو گانے سننے جلسوں میں چلے جاتے ہیں، کیا ان کے لیے ایسا کوئی مفت کا بندوبست حکومت نہیں کرسکتی جہاں ہر طبقے کے لوگ پورا ایک دن تفریح کرسکیں اور جشن آزادی منا سکیں۔ کچھ جھولے کچھ تفریح بچوں کے لیے، کوئی آتش بازی اس عوام کے لیے جو آزادی کے اس دن کو منانا چاہتی ہے مگر منا نہیں پاتی۔
اگر ایسا کرلیا گیا تو یہ جو جگہ جگہ سڑکیں بند ہوجاتی ہیں، ہم اس سے بھی بچ جائیں گے اور جشن بھی چلتا رہے اور کاروبار زندگی بھی۔ لوگوں کے پاس اس روز کچھ کرنے کے لیے کوئی جگہ کوئی اہتمام ہو۔
زار ہزار پردوں میں ہونے والی پرچم کشائیاں اور پریڈ سے عام عوام کو کیا ملا ہے؟ ایک نظارہ تک نہیں! کیا اس میں سے اس روز عوام کو کچھ حصہ نہیں مل سکتا؟ بس یہی عرض ہے کہ کچھ تو کیجیے کہ جس میں کبھی کبھار عوام اپنی ریاست سے خوش ہوجائے اور اس کا ناچنے کو دل کرے تو اس پر شرمندہ نہ ہو۔ پھر چاہے آپ باجے بین کردیں اور موٹرسائیکل کے سائلنسر نکال کر چلنے والوں کو گرفتار کرلیں۔ مگر جب تک آپ جذبات کے اظہار کا محفوظ بندوبست نہیں کریں گے وہ اسی طرح سے ابل ابل کر سڑکوں پر امڈتے اور ضائع ہوتے رہیں گے
No comments
Thanks